اطلاعات ہیں کہ انکی ہلاکت کے بعد نئے امیر کے طور پر ولی الرحمن اور قاری حسین کے نام سامنے آرہے ہیں، امریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبر کے متعلق پاکستان کے سرکاری اعلان کے منتظر ہیں جبکہ پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی مبینہ ہلاکت کی اطلاعات کی تفیتش کی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز سرکاری ٹی وی نے طالبان کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں شمالی اورکزئی ایجنسی کے علاقے ماموزئی میں سپردخاک کر دیا گیا ہے۔ حکیم اللہ محسود کی تدفین ان کے سسر کے گھر میں کی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق تدفین کے موقع پر سو کے قریب گاڑیوں میں آنیوالے مقامی طالبان نے شرکت کی ۔ اطلاع کے مطابق وہ 14 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے بھی پاکستانی انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے طالبان سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے حکیم اللہ محسود کے انتقال کی اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بھی اس طرح کی اطلاعات ملی ہیں اور ہم تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا یہ اطلاعات درست ہیں یا غلط .
ادھر وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ مقامی ذرائع حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کررہے ہیں لیکن فی الحال حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں کر سکتے اور نہ ہی مصدقہ ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے ۔
ادھر طالبان نے کمانڈر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔
آئی این پی کے مطابق حکیم اللہ کے انتقال کے بعد نئے امیر کی تقرری کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں اور ولی الرحمان اور قاری حسین احمد کے نام سامنے آئے ہیں۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 177554
طالبان تحریک کے امیر کمانڈر حکیم اللہ محسود14 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک قرار دیا ہے۔